9

جہاں-کام-ٹھیک-نہ-ہورہاہو،آپریشن-کردی

(ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید اور وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،چیئرمین کمیٹی فیصل جاویدنے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان سے پوچھا کیا آپ ڈاکٹرہیں؟

فردوس عاشق بولیں لو جی ! آ پ کو پتہ ہی نہیں کہ میں ڈاکٹر ہوں ، میں تو سرجن بھی ہوں، جہاں کام ٹھیک نہ ہورہاہو،آپریشن کردیتی ہوں اورجہاں کمزوری ہووہاں طاقت کاانجکشن لگادیتی ہوں،فیصل جاوید جھینپتے ہوئےبولےمیں سمجھا آپ پی ایچ ڈی ڈاکٹرہیں۔
سینیٹرفیصل جاوید کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی اطلاعات کا اجلاس شروع ہوا تو سینیٹر پرویز رشید نے وزیراطلاعات کی سیٹ خالی دیکھ کرسوال داغا فیصل صاحب! آج کل وزیراطلاعات کون ہیں؟

فیصل جاویدنے جواب دیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات کا قلم دان وزیراعظم عمران خان کےپاس ہے۔

پرویز رشیدبولے ہماری خوش قسمتی ہوتی اگروہ اجلاس میں آجاتے ،فیصل جاویدنےکہا آپ کو تو معلوم ہے اس عہدے کا، آپ خود اس کے وزیر رہے ہیں۔

پرویزرشید نے فیصل جاوید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں تو برطرف وزیر ہوں، اللہ انہیں اس بد انجام سے بچائے۔

اسی دوران معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اجلاس میں پہنچ گئیں،پرویز رشید نے کہا ان کی نظر میں فردوس عاشق اعوان کا مقام بہت بلند ہے،وہ اس سے زیادہ کی اہل ہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فردوس عاشق کوبھی ترقی دے کروزیربنائے۔

ایک موقع پر چیئرمین کمیٹی نےپی ٹی وی کے پینشنرز کا مسئلہ حل نہ ہونے کا سوال پوچھا توفردوس عاشق اعوان نے کہا وہ ڈاکٹر ہیں اور جانتی ہیں مرض کاعلاج کیسے کرنا ہے، فیصل جاوید نےقدرےحیرت سے پوچھا کیا آپ میڈیکل ڈاکٹر ہیں؟

فردوس عاشق بولیں آپ کو ابھی تک یہی پتہ نہیں چل سکا کہ میں میڈیکل ڈاکٹر ہوں؟ فیصل جاوید جھینپتے ہوئے بولےمیں سمجھا آپ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔

فردوس عاشق نے کہا کہ میں سرجن بھی ہوں، اور جانتی ہوں کس ادارے کےکیا مسائل ہیں ان کے حل کے لیے کب اورکیسے سرجری کرنا ہے، اور کس کو طاقت کا انجکشن لگانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں