8

مال روڈ پر ریلی: شہباز شریف، قمرالزمان کائرہ سمیت سیکڑوں افراد پر مقدمات درج

مال روڈ پر ریلی: شہباز شریف، قمرالزمان کائرہ سمیت سیکڑوں افراد پر مقدمات درج
پنجاب پولیس نے لاہور کے مال روڈ پر اپوزیشن کی جانب سے ریلی نکالنے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 2018 کے عام انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منایا گیا تھا، اس سلسلے میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی تھیں، جس پر پولیس نے مقدمات درج کرتے ہوئے شہباز شریف اور قمرالزمان کائرہ کو بھی نامزد کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے 58 ارکان اور 2 ہزار نامعلوم افراد کے خلاف 2 علیحدہ ایف آئی آر درج کی گئیں۔
اپوزیشن کے خلاف امن و عامہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے 10 مختلف اقدامات پر درج کیے گئے، جس میں ساؤنڈ سسٹم ایکٹ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور عوامی مقامات پر پینافلیکس بینرز کا استعمال کرنا شامل ہے۔
یہ دونوں مقدمات پولیس کی مدعیت میں ہی درج کیے گئے، پہلی ایف آئی آر تھانہ سول لائنز جبکہ دوسری تھانہ گجر سنگ میں درج کی گئی۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ڈپٹی کمشنر سے اجازت کے لیے تحریری درخواست کے باوجود پنجاب حکومت نے 25 جولائی کو مال روڈ پر اپوزیشن کو ریلی کی اجازت نہیں دی تھی۔
تاہم اس کے باوجود جماعت کی جانب سے مال روڈ پر ریلی نکالی گئی تھی، جس کی صدارت مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کی تھی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت 3 ہزار سے زائد کارکنان پر مختلف تھانوں میں 5 مقدمات درج کیے گئے تھے۔
یہ مقدمات حکومت مخالف تقاریر کرنے، بغیر اجازت ریلی نکالنے، امن و عامہ میں رکاوٹ ڈالنے اور خطرات پیدا کرنے پر درج کیے گئے تھے۔
ان مقدمات میں مریم نواز ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر، سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر، سابق وزیر مملکت طلال چوہدری، پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثنااللہ کی اہلیہ نبیلہ، ان کے داماد شہریار، سابق میئر فیصل آباد ملک عبدالرزاق، اراکین قومی اسمبلی جاوید لطیف، شہباز بابر، عالیہ رجب بلوچ اور مصدق ملک کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں