7

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں، معمولات زندگی درہم برہم

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں، معمولات زندگی درہم برہم
  
ملک کے مشرقی اور شمالی علاقہ جات میں شدید بارشوں کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے اور متعدد علاقے زیرِ آب آگئے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی دیکھی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش اسلام آباد میں 120 ملی میٹر، ریکارڈ کی گئی جس کے بعد راولپنڈی میں 83 ملی میٹر، لاہور میں 13 ملی میٹر، سیالکوٹ 43 ملی میٹر، اور گوجرانوالہ میں 38 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
پنجاب میں بارشوں سے تباہی
اسلام آباد میں 6 گھنٹے سے زائد برسنے والی بارش سے 36 فیڈر ٹرپ ہوگئے جبکہ گھروں میں پانی بھر گیا جس کے باعث ایک خاتون اور ان کا 6 ماہ کا بچہ جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق گھر کے دیگر 6 افراد بھی ڈوبنے کے باعث بے ہوش ہوئے تھے تاہم انہیں بچا لیا گیا
لاہور میں ایئر پورٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی جس سے پروازیں بھی متاثر ہوئیں، وقفے وقفے سے جاری تیز بارش کے سبب نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے جس سے شہریوں کو آمدو رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو حکام کے مطابق زیر آب علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
لاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث 180 فیڈر ٹرپ ہوگئے، بعدازاں لیسکو حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 110 فیڈر بحال کردیے البتہ 70 فیڈرز بحال کرنے کی کوششیں جاری تھی۔
ریسکیو حکام کے مطابق نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے۔
بارش کے باعث دریائے چناب اور دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا جبکہ منگلا ڈیم میں بھی پانی کے ذخیرے کی سطح بلند ہوگئی۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ہلکی بارش سے کے-الیکٹرک کا نظام پھر مفلوج، کئی علاقوں میں بجلی غائب
چنانچہ دریا کے کناروں پر قائم بستیوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارشوں کے باعث آئندہ 48 گھنٹوں میں لاہور، سرگودھا, فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالا، گجرات اور سیالکوٹ میں سیلاب کا خطره ہے۔
خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے کا خطرہ
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور سب سے زیادہ بارش کاکول 85 ملی میٹر جبکہ آزاد کشمیر میں 21 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 2 سے 3 روز تک مزید بارشوں کے سبب مقامی دریاؤں اور برساتی نالوں میں طغیانی جبکہ پشاور ڈویژن کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
اس کے علاوہ محکمہ موسمیات نے ضلع چترال میں درجہ حرارت میں اضافے اور موسلا دھار بارشوں کے سبب گلیشیئر پھٹنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں