8

بات چیت مثبت ہے مگر معاملات طے نہیں ہوئ

خلیج میں تیل بردار بحری جہازوں کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے سائے میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے شروع کی گئی بات چیت کے بارے میں ایرانی موقف ہے کہ یہ مثبت ہے تاہم ابھی بہت سے معاملات طے نہیں ہوئے ہیں۔

ویانا میں اس ملاقات میں ایران کی جانب سے شرکت کرنے والے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار عباس اراخچی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے ایران کا تیل بردار جہاز پکڑنا سنہ 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی تھا جبکہ ایران نے برطانیہ کی اس تجویز کو بھی ‘اشتعال انگیز’ کہا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو یورپی مشن کی نگرانی میں وہاں سے گزارا جائے۔‘

میٹنگ کے بعد عباس اراخچی کا کہنا تھا کہ ‘بات چیت تعمیری ماحول میں ہوئی۔ گفتگو اچھی رہی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ہر مسئلے کو حل کر لیا ہے، تاہم میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ بہت سی یقین دہانیاں دی گئی ہیں۔’

ایران کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ گذشتہ برس اس وقت ہونا شروع ہوا تھا جب امریکہ نے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر نئی پابندیوں کا اطلاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایران: ٹینکر کے یرغمالیوں کی تصاویر جاری

امریکہ کا سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

آبنائے ہرمز: ایران نے برطانوی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

گذشتہ ہفتوں میں ایران اور برطانیہ نے ایک دوسرے کا ایک، ایک تیل بردار بحری ٹینکر قبضے میں لے لیا تھا۔ اور اس کے باعث جنم لینے والی کشیدگی نے ایک بار پھر سنہ 2015 میں سائن کی گئی نیوکلئیر ڈیل کو بچانے کے حوالے سے دباؤ بڑھا دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں