18

راولپنڈی میں فوجی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 19 افراد ہلاک

راولپنڈی میں پیر اور منگل کی شب فوجی طیارے کے حادثے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں پانچ فوجی اور 14 شہری شامل ہیں جبکہ 12 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ایک چھوٹا طیارہ معمول کی پرواز کے دوران راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کاہلو میں حادثے کا شکار ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

’بھائی،بھابھی،بھتیجا سب جل کر راکھ ہو گئے‘

راولپنڈی میں رہائشی علاقے پر طیارہ گرنے سے ہلاکتیں

پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ

کنگ ایئر 350 طیارہ جو عموماً ریکی یا مسافروں کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے، رات دو بجے کے قریب اس علاقے میں واقع مکانات پر گرا جس سے اس پر سوار دو پائلٹوں لیفٹننٹ کرنل ثاقب اور لیفٹننٹ کرنل وسیم کے علاوہ نائب صوبیدار افضل، حوالدار ابن امین اور حوالدار رحمت ہلاک ہو گئے۔

طیارہ گرنے سے متعدد مکانات میں بھی آگ لگ گئی اور اب تک ریسکیو 1122 کے مطابق اس حادثے میں 14 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جن میں سات خواتین اور سات مرد ہیں جبکہ ہلاک شدگان میں سے دس کی عمر 18 برس سے کم ہے۔

ان میں ایک ہی خاندان کے آٹھ جبکہ ایک اور خاندان کے تین افراد بھی شامل ہیں۔

طیارہ
Image captionعلاقہ مکین ابتدائی طبی امداد حاصل کرنے والے ایک زخمی شخص کی مدد کر رہے ہیں

حادثے کے بعد پاکستانی فوج اور ریسکیو 1122 کے عملے نے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کی اور وہاں لگنے والی آگ بجھائی۔

حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے منگل کی صبح ہسپتالوں کا دورہ کیا اور اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ شہر کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

واقعے کے ایک عینی شاہد غلام خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کے گرنے سے قبل ہی اس میں آگ لگ چکی تھی۔

انھوں نے حادثے کے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’سامنے گھر میں گرا ہے۔ایک فیملی رہتی تھی اس میں۔ ہم جاگ رہے تھے اور ہم نے خود دیکھا جہاز ادھر سے گزر رہا تھا ہمارے کمروں کے اوپر سے۔

ان کا کہنا تھا ’جہاز کو پہلے سے آگ لگی ہوئی تھی اور اس کی بہت خوفناک آواز تھی۔‘

نقشہ

طیارہ جن مکانات پر گرا ان میں یامین کا مکان بھی شامل تھا اور وہ خود بھی حادثے کے وقت وہیں موجود تھے۔

انھوں نے بی بی سی اردو کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’دو بجے کا وقت تھا۔ ہوش نہیں تھا، پتا ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک دم بندہ نیند سے اٹھے تو کچھ سمجھ بھی نہ آتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مکان کی پہلی منزل پر موجود تھے کہ ایک زوردار آواز آئی اور پھر پیٹرول پھیل گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔

حادثے کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر #BahriaTown اور #planecrash کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔

طیارہ
Image captionسورج طلوع ہونے تک کئی علاقہ مکین بھی جائے حادثہ کے ارد گرد موجود تھے

اور متعدد افراد نے تصاویر اور ویڈیوز شئیر کیں جس میں مبینہ طور پر گرنے والی جہاز کی پرواز اور اس کے گرنے کے مناظر نظر آ رہے ہیں۔

بعض افراد نے گرنے والے جہاز میں لگی ہوئی آگ کی تصاویر اپنے گھروں کی چھتوں سے کھینچ کر سوشل میڈیا پر شائع کیں۔

یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں کوئی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ ہوا ہو۔

اس سے قبل 20 اپریل 2012 کو نجی ایئر لائن بھوجا ایئر کی کراچی سے اسلام آباد آنے والی پرواز راولپنڈی کے گاؤں حسین آباد کے قریب گر کر تباہ ہوئی تھی۔ اس حادثے میں 127 افراد ہلاک ہوئے تاہم زمین پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں