7

مون سون: سندھ کے مختلف شہروں میں شدید بارشیں، کراچی میں کم از کم نو افراد ہلاک

سندھ کے مختلف شہروں میں پیر کو مون سون کی پہلی بارش نے شہری نظام درہم برہم کر دیا اور بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے کراچی میں نو افراد ہلاک ہوگئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
کراچی پولیس کے مطابق یہ ہلاکتیں شہر کے مختلف علاقوں میں ہوئیں جبکہ شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال جناح ہسپتال کے شعبے ایمرجنسی کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ان کے پاس پانچ افراد مردہ حالت میں لائے گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
دن بھر ہونے والی بارش کی وجہ سے مختلف شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بالخصوص کراچی میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
کئی علاقوں میں گھروں کے اندر سیوریج کا پانی داخل ہوگیا جبکہ شہر کی مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا جہاں گاڑیاں گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسی رہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان: مون سون کی آمد پر پانچ احتیاطی تدابیر
انڈیا: سیلاب میں پھنسے 700 مسافروں کو بچا لیا گیا
پاکستان میں معمول سے زیادہ برفباری، سردیاں طویل
تیز بارش کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
شہری سکیورٹی اور سیفٹی امور کے ماہر ناربرٹ المیڈا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے باعث ہونے والی اموات میں سب سے بڑی وجہ بجلی کے ننگے تار اور خراب وائرنگ ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات تار گر جانے سے بھی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ احتیاط نہیں برتتے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل برسات کے پیشِ نظر کے الیکٹرک کی جانب سے تنبیہہ جاری کی گئی تھی جس میں بجلی کے کھمبوں اور ٹوٹے ہوئے تاروں کے قریب جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
مون سون سیزن کے پیشِ نظر کے الیکٹرک نے شہریوں کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا انتباہ جاری کر رکھا ہے جس میں بارش کے دوران گیلے ہاتھوں سے برقی آلات نہ چھونے، بجلی کے کھمبے، درختوں یا پی ایم ٹی کے قریب نہ جانے جبکہ بچوں کو بجلی کے ساکٹ سے دور رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ناربرٹ المیڈا نے کہا کہ خاص طور پر وہ افراد کو نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر ہوں ان کو چاہیے کہ وہ بارشوں کی صورت میں گھر سے نکلنے کا اہتمام پہلے سے کر کے رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے تمام افراد کو اس کا علم ہو۔
اس کے علاوہ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گھر سے نکلتے ہوئے بجلی کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے ورنہ شارٹ سرکٹ ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں