8

درجہ حرارت

چاہے ہم برفانی طوفان میں ہوں یا گرمی کی لہر میں، ہمارا جسم 37.5 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ درجہ حرارت ہے جس پر ہمارے جسم نے کام کرنا سیکھ لیا ہے۔

لیکن جیسے جیسے پارہ بڑھتا ہے، جسم کو اپنا بنیادی درجہ حرارت کم رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان حالات میں ہمارا جسم جلد کے قریب واقع شریانوں کو کھول دیتا ہے تاکہ ہمیں پسینہ آئے اور جسم کا درجہ حرارت کم ہو جائے۔

پسینہ خشک ہو کر جلد سے خارج ہونے والی گرمی کو ڈرامائی حد تک بڑھا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شدید گرمی اور لُو سے کیسے بچا جائے

یورپ میں گرمی کی لہر، جون میں ریکارڈ درجہ حرارت

کیا سفید چھتیں درجۂ حرارت کم کر سکتی ہیں؟

مسئلہ کب پیدا ہوتا ہے؟

سننے میں یہ عمل سادہ لگ رہا ہے لیکن یہ جسم پر کافی دباؤ ڈالتا ہے یعنی جتنا زیادہ درجہ حرارت بڑھتا ہے اتنا ہی جسم پر دباؤ۔

یہ کھلی شریانیں بلڈ پریشر گھٹا دیتی ہیں اور ہمارے دل کو جسم میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ کھلی شریانوں کے رسنے کی وجہ سے پاؤں میں سوجن اور گرمی دانوں پر خارش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

لیکن اگر بلڈ پریشر کافی کم ہو جائے تو جسم کے ان اعضا کو کم خون پہنچے گا جنھیں اسکی بہت ضرورت ہے اور دل کے دورے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

گرمی

اس کے ساتھ ساتھ پسینہ بہنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کا توازن بدل جاتا ہے۔

ان علامات کے ساتھ کم فشارِ خون کی وجہ سے لو بھی لگ سکتی ہے جس کی علامات یہ ہیں: سر چکرانا، بے ہوش ہونا، الجھن کا شکار ہونا، متلی آنا، پٹھوں میں کھچاؤ محسوس کرنا، سر میں درد ہونا، شدید پسینہ آنا اور تھکاوٹ محسوس کرنا

اگر کسی کو لو لگ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

اگر جسم کا درجہ حرارت آدھے گھنٹے میں کم ہو جائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔

برطانوی ادارہ نیشنل ہیلتھ سروسز تجویز کرتا ہے کہ:

  • متاثرہ شخص کو ٹھنڈی جگہ منتقل کریں۔
  • انھیں لٹائیں اور ان کے پاؤں کو ہلکا سا اوپر کریں۔
  • انھیں زیادہ مقدار میں پانی پلائیں، یا ری ہائڈریشن ڈرنکس یا مشروبات بھی دیے جا سکتے ہیں۔
  • ان کی جلد کو ٹھنڈا کریں، ٹھنڈے پانی کی مدد سے اس پر سپرے کریں اور پنکھے کی ہوا لگنے دیں۔ بغل اور گردن کے پاس آئس پیک بھی رکھا جا سکتا ہے۔

تاہم اگر وہ 30 منٹ کے اندر اندر بہتر محسوس نہ کریں تو اس کا مطلب ہے ان کو ہیٹ سٹروک ہو گیا ہے۔ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے اور آپ کو فوراً طبّی عملے کو فون کرنا چاہیے۔

ہیٹ سٹروک کا شکار ہونے والے افراد کا گرمی لگنے کے باوجود پسینہ آنا بند ہو سکتا ہے۔ ان کے جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہونے کے بعد وہ بے ہوش ہو سکتے ہیں یا انھیں دورے پڑ سکتے ہیں۔

گرمی

کس کو زیادہ خطرہ ہے؟

صحت مند افراد عام سمجھ بوجھ استعمال کر کے گرمی کی لہر میں خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو لو لگنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ عمر کے لوگ یا دل کی بیماری جیسے امراض کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے گرمی کی وجہ سے جسم پر پڑنے والے دباؤ سے نمٹنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ذیابطیس 1 اور 2 کی وجہ سے جسم تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے اور بیماری کی وجہ سے شریانیں اور پسینہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بات بھی اہم کردار ادا کرتی ہے کہ آپ کو سمجھ ہو کہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بہت بڑھ چکا ہے اور یہ کہ اس بارے میں آپ کو کچھ کرنا چاہیے۔ ہم اس بات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن بچوں اور ذہنی امراض کے شکار افراد گرمی کی لہر کا زیادہ آسان شکار ہو سکتے ہیں۔

بے گھر افراد کو سورج کی تپش زیادہ محسوس ہو گی اور فلیٹ میں سب سے اوپر رہنے والے لوگوں کو بھی زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کیا کچھ ادویات گرمی لگنے کا خدشہ بڑھا دیتی ہیں؟

جی بالکل لیکن لوگوں کو اپنی ادویات باقاعدگی سے لینی چاہییں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے اور پانی کی کمی سے بچنے کے لیے احتیاط کرنی چاہیے۔

کیا گرمی سے موت واقع ہو سکتی ہے؟

جی ہاں۔ برطانیہ میں ہر سال گرمی کی وجہ سے تقریباً 2000 اموات ہوتی ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر اموات دل کا دورہ پڑنے یا سٹروک سے ہوتی ہیں کیونکہ جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کی وجہ سے دل پر دباؤ پڑتا ہے۔

اندازے کے مطابق یورپ میں سنہ 2003 میں پڑنے والی گرمی کی وجہ سے 70000 اضافی اموات ہوئیں۔

گرمی

دن اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت

دن کے اوقات میں جب سورج سر پر ہو گا تو درجہ حرارت بھی عروج پر ہو گا لیکن رات کے اوقات میں درجہ حرارت بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم کو وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر جسم پر بنیادی درجہ حرارت کم رکھنے کا دباؤ دن رات برقرار رہے تو کئی امراض لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

تو گرمی کے بارے میں کیا کیا جائے؟

اس بارے میں تجویز بہت آسان اور سادہ ہے۔ آپ ٹھنڈے رہیں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

پانی اور دودھ پیتے رہیں۔ چائے اور کافی بھی ٹھیک ہے۔ لیکن شراب سے اجتناب کیجیے کیونکہ یہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ بس جسم کو ٹھنڈا رکھیے۔ اگر باہر زیادہ گرمی ہے تو کھڑکیاں بند رکھیں اور پردے مت ہٹائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں